یہ کہہ کے رخنہ ڈالئے ان کے حجاب میں

مفتی صدرالدین آزردہ

یہ کہہ کے رخنہ ڈالئے ان کے حجاب میں

مفتی صدرالدین آزردہ

MORE BY مفتی صدرالدین آزردہ

    یہ کہہ کے رخنہ ڈالئے ان کے حجاب میں

    اچھے برے کا حال کھلے گا نقاب میں

    یا رب وہ خواب حق میں مرے خواب مرگ ہو

    آئے وہ مست خواب اگر میرے خواب میں

    تحقیق ہو تو جانوں کہ میں کیا ہوں قیس کیا

    لکھا ہوا ہے یوں تو سبھی کچھ کتاب میں

    میں اور ذوق بادہ کشی لے گئیں مجھے

    یہ کم نگاہیاں تری بزم شراب میں

    ہیں دونوں مثل شیشہ پہ سامان صد شکست

    جیسا ہے میرے دل میں نہیں ہے حباب میں

    یہ عمر اور عشق ہے آزردہؔ جائے شرم

    حضرت یہ باتیں پھبتی تھیں عہد شباب میں

    مآخذ:

    • کتاب : Noquush (Pg. B376 E391)
    • مطبع : Nuqoosh Press Lahore (May June 1954)
    • اشاعت : May June 1954

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY