یہ کیسا ربط ہوا دل کو تیری ذات کے ساتھ

مخمور سعیدی

یہ کیسا ربط ہوا دل کو تیری ذات کے ساتھ

مخمور سعیدی

MORE BYمخمور سعیدی

    یہ کیسا ربط ہوا دل کو تیری ذات کے ساتھ

    ترا خیال اب آتا ہے بات بات کے ساتھ

    کٹھن تھا مرحلۂ انتظار صبح بہت

    بسر ہوا ہوں میں خود بھی گزرتی رات کے ساتھ

    پڑیں تھیں پائے نظر میں ہزار زنجیریں

    بندھا ہوا تھا میں اپنے توہمات کے ساتھ

    جلوس وقت کے پیچھے رواں میں اک لمحہ

    کہ جیسے کوئی جنازہ کسی برات کے ساتھ

    کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے جیسے یہ دنیا

    بدل رہی ہو مرے دل کی واردات کے ساتھ

    جو دور سے بھی کسی غم کا سامنا ہو جائے

    پکارتا ہے مجھے کتنے التفات کے ساتھ

    تڑخ کے ٹوٹ گیا دل کا آئینہ مخمورؔ

    پڑا جو عکس فنا پرتو حیات کے ساتھ

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    یہ کیسا ربط ہوا دل کو تیری ذات کے ساتھ نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY