یہ کس رشک مسیحا کا مکاں ہے

حیدر علی آتش

یہ کس رشک مسیحا کا مکاں ہے

حیدر علی آتش

MORE BYحیدر علی آتش

    یہ کس رشک مسیحا کا مکاں ہے

    زمیں یاں کی چہارم آسماں ہے

    خدا پنہاں ہے عالم آشکارا

    نہاں ہے گنج ویرانہ عیاں ہے

    دل روشن ہے روشن گر کی منزل

    یہ آئینہ سکندر کا مکاں ہے

    تکلف سے بری ہے حسن ذاتی

    قبائے گل میں گل بوٹا کہاں ہے

    پسیجے گا کبھی تو دل کسی کا

    ہمیشہ اپنی آہوں کا دھواں ہے

    برنگ بو ہوں گلشن میں میں بلبل

    بغل غنچے کے میرا آشیاں ہے

    شگفتہ رہتی ہے خاطر ہمیشہ

    قناعت بھی بہار بے خزاں ہے

    چمن کی سیر پر ہوتا ہے جھگڑا

    کمر میری ہے دست باغباں ہے

    بہت آتا ہے یاد اے صبر مسکیں

    خدا خوش رکھے تجھ کو تو جہاں ہے

    الٰہی ایک دل کس کس کو دوں میں

    ہزاروں بت ہیں یاں ہندوستاں ہے

    یقیں ہوتا ہے خوشبوئی سے اس کے

    کسی گل رو کا غنچہ عطرداں ہے

    وطن میں اپنے اہل شوق کی طرح

    سفر میں روز و شب ریگ رواں ہے

    سحر ہووے کہیں شبنم کرے کوچ

    گل و بلبل کا دریا درمیاں ہے

    سعادت مند قسمت پر ہیں شاکر

    ہما کو مغز بادام استخواں ہے

    دل بے تاب جو اس میں گرے ہیں

    ذقن جاناں کا پارہ کا کنواں ہے

    جرس کے ساتھ دل رہتے ہیں نالاں

    مرے یوسف کا عاشق کارواں ہے

    نہ کہہ رندوں کو حرف سخت واعظ

    درشت اہل جہنم کی زباں ہے

    قد محبوب کو شاعر کہیں سرو

    قیامت کا یہ اے آتشؔ نشاں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY