یہ کسی شخص کو کھونے کی تلافی ٹھہرا

امیر امام

یہ کسی شخص کو کھونے کی تلافی ٹھہرا

امیر امام

MORE BYامیر امام

    یہ کسی شخص کو کھونے کی تلافی ٹھہرا

    میرا ہونا مرے ہونے میں اضافی ٹھہرا

    جرم آدم تری پاداش تھی دنیا ساری

    آخرش ہر کوئی حق دار معافی ٹھہرا

    یہ ہے تفصیل کہ یک لمحۂ حیرت تھا کوئی

    مختصر یہ کہ مری عمر کو کافی ٹھہرا

    کچھ عیاں ہو نہ سکا تھا تری آنکھوں جیسا

    وہ بدن ہو کے برہنہ بھی غلافی ٹھہرا

    جب زمیں گھوم رہی ہو تو ٹھہرنا کیسا

    کوئی ٹھہرا تو ٹھہرنے کے منافی ٹھہرا

    قافیہ ملتے گئے عمر غزل ہوتی گئی

    اور چہرہ ترا بنیاد قوافی ٹھہرا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY