یہ کیا بتائیں کہ کس رہ گزر کی گرد ہوئے

فضا ابن فیضی

یہ کیا بتائیں کہ کس رہ گزر کی گرد ہوئے

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    یہ کیا بتائیں کہ کس رہ گزر کی گرد ہوئے

    ہم ایسے لوگ خود اپنے سفر کی گرد ہوئے

    نجات یوں بھی بکھرنے کے کرب سے نہ ملی

    ہوئے جو آئنہ سب کی نظر کی گرد ہوئے

    یہ کن دکھوں نے چم و خم تمام چھین لیا

    شعاع مہر سے ہم بھی شرر کی گرد ہوئے

    سب اپنے اپنے افق پر چمک کے تھوڑی دیر

    مجھے تو دامن شام و سحر کی گرد ہوئے

    پکارو کہہ کے ہمیں چھاؤں جی نہ بہلے گا

    بچے جو دھوپ سے پائے شجر کی گرد ہوئے

    ہمیں بھی بولنا آتا ہے پھر بھی ہیں خاموش

    کہ ہم ترے سخن مختصر کی گرد ہوئے

    دھلا سا چہرہ بھی کچھ ماند پڑ گیا آخر

    ہوئے نہ اشک تری چشم تر کی گرد ہوئے

    شریر و تند ہوا تھی کہ رو معانی کی

    تمام لفظ لب معتبر کی گرد ہوئے

    یہ راہ کتنی پر آشوب ہے فضاؔ نہ کہو

    قلم کی راہ چلے ہم ہنر کی گرد ہوئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY