یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیں

اعتبار ساجد

یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیں

اعتبار ساجد

MORE BYاعتبار ساجد

    یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیں

    بہت اچھا بھلا چھوڑا تھا اب بیمار کیسے

    وہ مجھ سے پوچھنے آئی ہے کچھ لکھا نہیں مجھ پر

    میں اس کو کیسے سمجھاؤں مرے اشعار کیسے ہیں

    مری سوچیں ہیں کیسی کون ان سوچوں کا مرکز ہے

    جو میرے ذہن میں پلتے ہیں وہ افکار کیسے ہیں

    مرے دل کا الاؤں آج تک دیکھا نہیں جس نے

    وہ کیا جانے کہ شعلے صورت اظہار کیسے ہیں

    یہ منطق کون سمجھے گا کہ یخ کمرے کی ٹھنڈک میں

    مرے الفاظ کے ملبوس شعلہ بار کیسے ہیں

    ذرا سی ایک فرمائش بھی پوری کر نہیں سکتے

    محبت کرنے والے لوگ بھی لاچار کیسے ہیں

    جدائی کس طرح برتاؤ ہم لوگوں سے کرتی ہے

    مزاجاً ہم سخنور بے دل و بے زار کیسے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Mujhe Koi Sham Udhar Do (Pg. 64)
    • Author : Aitabar Sajid
    • مطبع : Ilm o Irfan Publishers Lahore (2007,2009)
    • اشاعت : 2007,2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY