یہ کیا وسوسے ہم سفر ہو گئے ہیں

مشتاق نقوی

یہ کیا وسوسے ہم سفر ہو گئے ہیں

مشتاق نقوی

MORE BYمشتاق نقوی

    یہ کیا وسوسے ہم سفر ہو گئے ہیں

    سبھی راستے پر خطر ہو گئے ہیں

    پکارا نہیں تم کو غیرت نے ورنہ

    کئی بار آکر ادھر ہو گئے ہیں

    نہ سمجھو ہمیں کچھ شکایت نہیں ہے

    کہ خاموش کچھ سوچ کر ہو گئے ہیں

    کسے ہو خبر درد پنہاں کی اے دل

    جنہیں تھی خبر بے خبر ہو گئے ہیں

    ہم اپنی تباہی پہ بس مسکرائے

    مگر دامن غیر تر ہو گئے ہیں

    ترے بن ہمیں موت بھی تو نہ آئی

    جدائی کے دن بھی بسر ہو گئے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY