یہ منظر دیکھ کر ساحل کی حیرانی نہیں جاتی

ابرار احمد کاشف

یہ منظر دیکھ کر ساحل کی حیرانی نہیں جاتی

ابرار احمد کاشف

MORE BYابرار احمد کاشف

    یہ منظر دیکھ کر ساحل کی حیرانی نہیں جاتی

    مجھے چھو کر بھی کوئی موج طوفانی نہیں جاتی

    پریشانی اگر ہے تو پریشانی کا حل بھی ہے

    پریشاں حال رہنے سے پریشانی نہیں جاتی

    یہ کیسے لوگ ہیں جو آئینہ پہچان لیتے ہیں

    کہ اب ہم سے تو اپنی شکل پہچانی نہیں جاتی

    بہت کنجوس ہیں آنکھیں مری آنسو بہانے میں

    اگرچہ دولت غم کی فراوانی نہیں جاتی

    غم دنیا سے پہلو تو مرا آباد رہتا ہے

    مگر دل ہے کہ اس کی خانہ ویرانی نہیں جاتی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY