یہ میرے شہر کا اک اور حادثہ ہوگا

عابد ادیب

یہ میرے شہر کا اک اور حادثہ ہوگا

عابد ادیب

MORE BYعابد ادیب

    یہ میرے شہر کا اک اور حادثہ ہوگا

    وہ کل یہاں مرا مہمان بن چکا ہوگا

    تلاش میں ہوں کسی کی میں کب سے سرگرداں

    اسی طرح کوئی مجھ کو بھی ڈھونڈھتا ہوگا

    مری طرح سے کوئی چیختا ہے راہوں میں

    مری طرح کوئی دنیا کو دیکھتا ہوگا

    لگا کے آئے گا چہرہ کوئی نیا شب میں

    وہ جس کو بیٹھ کے دن میں تراشتا ہوگا

    شناسا چہرے بھی لگنے لگے ہیں بیگانے

    اب اپنا وقت ہی شاید بدل رہا ہوگا

    اداس اداس سا کھویا ہوا سا رہتا ہے

    کچھ اس سے بھی کوئی کہہ کر بدل گیا ہوگا

    تھکا تھکا سا اسی در پہ آ کے بیٹھا تھا

    نہ پوچھا ہوگا کسی نے تو چل دیا ہوگا

    جہاں پہنچ کے قدم ڈگمگائے ہیں سب کے

    اسی مقام سے اب اپنا راستہ ہوگا

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY