یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے

حفیظ جالندھری

یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے

حفیظ جالندھری

MORE BYحفیظ جالندھری

    یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے

    بات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہے

    باریابی کا برا ہو کہ اب ان کے در پر

    اگلے وقتوں کی مدارات نہیں ہوتی ہے

    غم تو گھنگھور گھٹاؤں کی طرح اٹھتے ہیں

    ضبط کا دشت ہے برسات نہیں ہوتی ہے

    یہ مرا تجربہ ہے حسن کوئی چال چلے

    بازیٔ عشق کبھی مات نہیں ہوتی ہے

    وصل ہے نام ہم آہنگی و یک رنگی کا

    وصل میں کوئی بری بات نہیں ہوتی ہے

    ہجر تنہائی ہے سورج ہے سوا نیزے پر

    دن ہی رہتا ہے یہاں رات نہیں ہوتی ہے

    ضبط گریہ کبھی کرتا ہوں تو فرماتے ہیں

    آج کیا بات ہے برسات نہیں ہوتی ہے

    مجھے اللہ کی قسم شعر میں تحسین بتاں

    میں جو کرتا ہوں میری ذات نہیں ہوتی ہے

    فکر تخلیق سخن مسند راحت پہ حفیظ

    باعث کشف و کرامات نہیں ہوتی ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-Hafeez Jalandhari (Pg. 707)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY