یہ نہیں کہتا کہ دوبارہ وہی آواز دے

ظفر اقبال

یہ نہیں کہتا کہ دوبارہ وہی آواز دے

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    یہ نہیں کہتا کہ دوبارہ وہی آواز دے

    کوئی آسانی تو پیدا کر کوئی آواز دے

    میں اسے سن کر بھی آنے کا نہیں مجبور ہوں

    پھر بھی اپنے خواب خانے سے کبھی آواز دے

    ہو سکے دونوں زمانوں میں ہم آہنگی کوئی

    میں پرانا ہوں تو کیا مجھ کو نئی آواز دے

    موت کے ساحل پر استادہ ہوں تو مجھ کو کہیں

    زندگی کے پانیوں میں ڈوبتی آواز دے

    ٹھیک ہے تو نے پکارا ہوگا جس تس کو مگر

    میرے حصے میں کوئی آئی ہوئی آواز دے

    بن بلایا ہی چلا آؤں گا میں شاید کبھی

    لیکن اتنے شور میں تو آپ بھی آواز دے

    میں اسے پہچان ہی پاؤں نہ پہلی بار تو

    کوئی آوازوں کے جنگل میں گھری آواز دے

    منہ سے کچھ کہہ تو سہی اس خامشی کے آر پار

    مستقل کو چھوڑ کوئی سرسری آواز دے

    تو نے تو ہر حال میں سننا ہے اب تجھ کو ظفرؔ

    روشنی آواز دے یا تیرگی آواز دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY