یہ قرض کج کلہی کب تلک ادا ہوگا

افتخار عارف

یہ قرض کج کلہی کب تلک ادا ہوگا

افتخار عارف

MORE BY افتخار عارف

    یہ قرض کج کلہی کب تلک ادا ہوگا

    تباہ ہو تو گئے ہیں اب اور کیا ہوگا

    یہاں تک آئی ہے بپھرے ہوئے لہو کی صدا

    ہمارے شہر میں کیا کچھ نہیں ہوا ہوگا

    غبار کوچۂ وعدہ بکھرتا جاتا ہے

    اب آگے اپنے بکھرنے کا سلسلہ ہوگا

    صدا لگائی تو پرسان حال کوئی نہ تھا

    گمان تھا کہ ہر اک شخص ہم نوا ہوگا

    کبھی کبھی تو وہ آنکھیں بھی سوچتی ہوں گی

    بچھڑ کے رنگ سے خوابوں کا حال کیا ہوگا

    ہوا ہے یوں بھی کہ اک عمر اپنے گھر نہ گئے

    یہ جانتے تھے کوئی راہ دیکھتا ہوگا

    ابھی تو دھند میں لپٹے ہوئے ہیں سب منظر

    تم آؤ گے تو یہ موسم بدل چکا ہوگا

    RECITATIONS

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    یہ قرض کج کلہی کب تلک ادا ہوگا افتخار عارف

    مآخذ:

    • کتاب : Mahr-e-Do Neem (Pg. 133)
    • Author : iftikhaar aarif
    • مطبع : Educational Publishing House (1999)
    • اشاعت : 1999

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY