یہ رات بھیانک ہجر کی ہے کاٹیں گے بڑے آلام سے ہم

شاد عظیم آبادی

یہ رات بھیانک ہجر کی ہے کاٹیں گے بڑے آلام سے ہم

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    یہ رات بھیانک ہجر کی ہے کاٹیں گے بڑے آلام سے ہم

    ٹلنے کی نہیں یہ کالی بلا سمجھے ہوئے تھے شام سے ہم

    جب قیس پہاڑ اس سر سے ٹلے عید آئی تب آئی جان میں جان

    تا دیر عجب عالم میں رہے ہونٹوں کو ملائے جام سے ہم

    تھا موت کا کھٹکا جاں فرسا صد شکر کہ نکلا وہ کانٹا

    گر ہو نہ قیامت کا دھڑکا اب تو ہیں بڑے آرام سے ہم

    تامنزل جاناں ساتھ رہا کم بخت تصور غیروں کا

    شوق اپنے قدم کھینچا ہی کیا پلٹا ہی کیے ہر گام سے ہم

    الفت نے انہیں کی حق کی طرف پھیرا مرے دل کو شکر خدا

    تعمیر کریں مسجد کوئی کیونکر نہ بتوں کے نام سے ہم

    اے ہم نفسو دم لینے دو بھولے ہوئے نغمے یاد آ لیں

    آئے ہیں چمن میں اڑ کے ابھی چھوٹے ہیں اسی دم دام سے ہم

    باتوں میں گزرتے ہجر کے دن اے کاش کہ دونوں مل جاتے

    ہم سے ہے دل ناکام خفا آزردہ دل ناکام سے ہم

    یوں ان کے ادب یا خاطر سے ہر بات کو لے لیں اپنے سر

    جب دل ہے انہیں کے قابو میں پھر پاک ہیں ہر الزام سے ہم

    وہ سمجھے کہ ہم نے مار لیا ہم سمجھے ملیں گے آخر وہ

    ملتے ہی نگہ کے دونوں خوش آغاز سے وہ انجام سے ہم

    دنیا میں تخلص کوئی نہ تھا کیا نیل کا ٹیکا شادؔ ہی تھا

    تم وجہ نہ پوچھو کچھ اس کی چڑھ جاتے ہیں کیوں اس نام سے ہم

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    یہ رات بھیانک ہجر کی ہے کاٹیں گے بڑے آلام سے ہم فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY