یہ رات ڈھلتے ڈھلتے رکھ گئی جواب کے لیے

انجم عرفانی

یہ رات ڈھلتے ڈھلتے رکھ گئی جواب کے لیے

انجم عرفانی

MORE BYانجم عرفانی

    یہ رات ڈھلتے ڈھلتے رکھ گئی جواب کے لیے

    کہ تیری آنکھیں جاگتی ہیں کس کے خواب کے لیے

    کتاب دل پہ لکھنے کی اجازت اس نے دی نہ تھی

    ہے سادہ آج بھی ورق یہ انتساب کے لیے

    مری نظر میں آ گیا ہے جب سے اک صحیفہ رخ

    کشش رہی نہ دل میں اب کسی کتاب کے لیے

    ہماری محضر عمل ہے زیر فیصلہ ابھی

    کھڑے ہیں سر جھکائے کب سے احتساب کے لیے

    پرانے پڑ چکے کبھی کے سب طریقۂ ستم

    خرابی اور چاہئے دل خراب کے لیے

    سمجھ رہے ہیں سب یہاں ہے زندگی عذاب جاں

    مگر یہ بھاگ دوڑ ہے اسی عذاب کے لیے

    تمام جسم زخموں سے گلاب زار ہو گیا

    تو لڑ رہے ہیں انجمؔ اب یہ کس گلاب کے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY