یہ رات تری زلف معنبر تو نہیں ہے

پورن سنگھ ہنر

یہ رات تری زلف معنبر تو نہیں ہے

پورن سنگھ ہنر

MORE BYپورن سنگھ ہنر

    یہ رات تری زلف معنبر تو نہیں ہے

    یہ چاند ترا چہرۂ انور تو نہیں ہے

    ہر شخص مقدر کا سکندر تو نہیں ہے

    ہر اک کو غم عشق میسر تو نہیں ہے

    سمجھا ہے جسے سارا جہاں امن کا دشمن

    وہ شخص محبت کا پیمبر تو نہیں ہے

    کس طرح بنے دامن محبوب کی زینت

    آنسو ہے مری آنکھ میں گوہر تو نہیں ہے

    لا سکتا ہوں میں چاند ستاروں کو زمیں پر

    یہ بھی مرے امکان سے باہر تو نہیں ہے

    سورج بھی شفق رنگ ہوا جس کی طلب میں

    وہ منظر رنگیں پس منظر تو نہیں ہے

    مصلوب مجھے کرکے بھی کیا فکر ہے تجھ کو

    چرچا تری بیداد کا گھر گھر تو نہیں ہے

    میں دھوپ کی شدت سے سلگتا ہوں سراپا

    چڑھتا ہوا سورج مرے سر پر تو نہیں ہے

    ہر سنگ سے اصنام تراشے نہیں جاتے

    اس راز سے واقف مگر آزر تو نہیں ہے

    میں روک رہا ہوں مگر آنسو نہیں رکتے

    آنکھوں میں چھپا کوئی سمندر تو نہیں ہے

    کیوں اس پہ اثر ہو نہ ترے جور و ستم کا

    اس سینے میں دل ہے کوئی پتھر تو نہیں ہے

    گو گرد تفکر مرے چہرے پہ ہے لیکن

    آئینۂ احساس مکدر تو نہیں ہے

    میں جس کو ہنرؔ چاروں طرف ڈھونڈ رہا ہوں

    وہ شخص مری ذات کے اندر تو نہیں ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY