یہ رواں اشک یہ پیارے جھرنے

فضل گیلانی

یہ رواں اشک یہ پیارے جھرنے

فضل گیلانی

MORE BYفضل گیلانی

    یہ رواں اشک یہ پیارے جھرنے

    مرے ہو جائیں یہ سارے جھرنے

    منظر آلودہ ہوا جاتا ہے

    کس نے دریا میں اتارے جھرنے

    کسی امکان کا پہلو ہیں کوئی

    تری آواز ہمارے جھرنے

    اتنی نمناک جو ہے خاک مری

    کس نے مجھ میں سے گزارے جھرنے

    مجھ میں تصویر ہوئی آخر شب

    خامشی پیڑ ستارے جھرنے

    ایک وادی ہے سر کوہ سکوت

    اور وادی کے کنارے جھرنے

    دیکھو تو بہتے ہوئے وقت کی رو

    اب ہمارے ہیں تمہارے جھرنے

    کیا بتاؤں میں انہیں تو ہی بتا

    پوچھتے ہیں ترے بارے جھرنے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY