یہ سچ نہیں کہ تمازت سے ڈر گئی ہے ندی

فردوس گیاوی

یہ سچ نہیں کہ تمازت سے ڈر گئی ہے ندی

فردوس گیاوی

MORE BYفردوس گیاوی

    یہ سچ نہیں کہ تمازت سے ڈر گئی ہے ندی

    سکون دل کے لیے اپنے گھر گئی ہے ندی

    ابھی تو پہنے ہوئی تھی لباس خاموشی

    یہ کیا ہوا کہ اچانک بپھر گئی ہے ندی

    ہمیں یہ ڈر ہے کہ پھر سے بپھر نہ جائے کہیں

    قدم بڑھاؤ کہ اس وقت اتر گئی ہے ندی

    وہ شخص تڑپا نہ چلایا اور مر بھی گیا

    پتا چلا نہیں کب وار کر گئی ہے ندی

    نہیں ملی جو رفاقت کسی سمندر کی

    تو ریزہ ریزہ سی ہو کر بکھر گئی ہے ندی

    نہ جانے آج تو اتنی ملول سی کیوں ہے

    یہ کیا ہوا کہ تری آنکھ بھر گئی ہے ندی

    سنا سنا کے غموں کی کہانیاں فردوسؔ

    مجھے تو اور بھی غمگین کر گئی ہے ندی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY