یہ شہر رفیقاں ہے دل زار سنبھل کے

حمایت علی شاعر

یہ شہر رفیقاں ہے دل زار سنبھل کے

حمایت علی شاعر

MORE BYحمایت علی شاعر

    یہ شہر رفیقاں ہے دل زار سنبھل کے

    ملتے ہیں یہاں لوگ بہت روپ بدل کے

    عارض ہیں کہ مرجھائے ہوئے پھول کنول کے

    آنکھیں ہیں کہ جھلسے ہوئے خوابوں کے محل کے

    چہرہ ہے کہ ہے آئینۂ گردش دوراں

    شہکار ہیں کیا کیا مرے نقاش ازل کے

    فرہاد سر دار ہے شیریں سر بازار

    بدلے نہیں اب تک مگر انداز غزل کے

    آئے ہیں غم عشق میں ایسے بھی مقامات

    دل خون ہوا آنکھ سے آنسو بھی نہ ڈھلکے

    دنیا بھی اک آماجگۂ حسن ہے شاعرؔ

    دیکھو تو ذرا حجلۂ جاناں سے نکل کے

    مأخذ :
    • کتاب : Naya daur (Pg. 262)
    • Author : Qamar Sultana

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY