Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ شہر ذات بہت ہے اگر بنایا جائے

عرفان صدیقی

یہ شہر ذات بہت ہے اگر بنایا جائے

عرفان صدیقی

MORE BYعرفان صدیقی

    یہ شہر ذات بہت ہے اگر بنایا جائے

    تو کائنات کو کیوں درد سر بنایا جائے

    ذرا سی دیر کو رک کر کسی جزیرے پر

    سمندروں کا سفر مختصر بنایا جائے

    اب ایک خیمہ لگے دشمنوں کی بستی میں

    دعائے شب کو نشان سحر بنایا جائے

    یہی کٹے ہوئے بازو علم کیے جائیں

    یہی پھٹا ہوا سینہ سپر بنایا جائے

    سنا یہ ہے کہ وہ دریا اتر گیا آخر

    تو آؤ پھر اسی ریتی پہ گھر بنایا جائے

    عجب مصاف سکوت و سخن میں جاری ہے

    کسے وسیلۂ عرض ہنر بنایا جائے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    یہ شہر ذات بہت ہے اگر بنایا جائے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here

    بولیے