یہ تم بے وقت کیسے آج آ نکلے سبب کیا ہے

مضطر خیرآبادی

یہ تم بے وقت کیسے آج آ نکلے سبب کیا ہے

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    یہ تم بے وقت کیسے آج آ نکلے سبب کیا ہے

    بلایا جب نہ آئے اب یہ آنا بے طلب کیا ہے

    محبت کا اثر پھر دیکھنا مرنے تو دو مجھ کو

    وہ میرے ساتھ زندہ دفن ہو جائیں عجب کیا ہے

    نگاہ یار مل جاتی تو ہم شاگرد ہو جاتے

    ذرا یہ سیکھ لیتے دل کے لے لینے کا ڈھب کیا ہے

    جو غم تم نے دیا اس پر تصدق سیکڑوں خوشیاں

    جو دکھ تم سے ملے ان کے مقابل میں طرب کیا ہے

    سمجھتے تھے بڑا سچا مسلماں تم کو سب مضطرؔ

    مگر تم تو بتوں کو پوجتے ہو یہ غضب کیا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 114)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY