یہ ٹوٹی کشتیاں اور بحر غم کے تیز دھارے ہیں

رام کرشن مضطر

یہ ٹوٹی کشتیاں اور بحر غم کے تیز دھارے ہیں

رام کرشن مضطر

MORE BYرام کرشن مضطر

    یہ ٹوٹی کشتیاں اور بحر غم کے تیز دھارے ہیں

    کناروں سے ہیں امیدیں نہ موجوں کے سہارے ہیں

    نہیں معلوم کیا کیا رنگ بدلے گی ابھی دنیا

    نگاہ وقت کے اے دل بہت نازک اشارے ہیں

    مرے آنسو تو جذب خاک ہو کر رہ گئے کب کے

    درخشاں ان کی پلکوں پر ابھی تک کچھ ستارے ہیں

    ہماری اور تمہاری زندگی میں فرق ہی کیا ہے

    وہی باتیں تمہاری ہیں وہی قصے ہمارے ہیں

    عبارت ہے انہیں سے داستان زندگی مضطرؔ

    کسی کی یاد میں جو زندگی کے دن گزارے ہیں

    مآخذ :
    • Raqs-e-bahar

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY