یہ ذکر آئنے سے صبح و شام کس کا ہے

کمال احمد صدیقی

یہ ذکر آئنے سے صبح و شام کس کا ہے

کمال احمد صدیقی

MORE BYکمال احمد صدیقی

    یہ ذکر آئنے سے صبح و شام کس کا ہے

    جو گنگناتے ہو ہر دم کلام کس کا ہے

    بھرے ہوئے ہیں سبھی صرف ایک خالی ہے

    اگر یہ میرا نہیں ہے تو جام کس کا ہے

    جو اہل ظرف ہیں پیاسے وہی ہیں محفل میں

    یہ دور کس کا ہے یہ انتظام کس کا ہے

    ہمارے نام پہ کیا کیا نہیں ہوا ہے یہاں

    ذرا پتہ تو چلاؤ نظام کس کا ہے

    تمہارے راز جو افشا ہوئے ہیں دنیا پر

    نہیں یہ کام تمہارا تو کام کس کا ہے

    نشاں سراغ نہ ہو یہ تمہارا طرز خاص

    یہ قتل عام مگر طرز عام کس کا ہے

    کمالؔ نے جو پڑھا وقت قتل مقتل میں

    سنا ہوا سا لگا وہ کلام کس کا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY