یوں بڑی دیر سے پیمانہ لیے بیٹھا ہوں

قیصر الجعفری

یوں بڑی دیر سے پیمانہ لیے بیٹھا ہوں

قیصر الجعفری

MORE BY قیصر الجعفری

    یوں بڑی دیر سے پیمانہ لیے بیٹھا ہوں

    کوئی دیکھے تو یہ سمجھے کہ پئے بیٹھا ہوں

    آخری ناؤ نہ آئی تو کہاں جاؤں گا

    شام سے پار اترنے کے لیے بیٹھا ہوں

    مجھ کو معلوم ہے سچ زہر لگے ہے سب کو

    بول سکتا ہوں مگر ہونٹ سیے بیٹھا ہوں

    لوگ بھی اب مرے دروازے پہ کم آتے ہیں

    میں بھی کچھ سوچ کے زنجیر دیے بیٹھا ہوں

    زندگی بھر کے لیے روٹھ کے جانے والے

    میں ابھی تک تری تصویر لیے بیٹھا ہوں

    کم سے کم ریت سے آنکھیں تو بچیں گی قیصرؔ

    میں ہواؤں کی طرف پیٹھ کیے بیٹھا ہوں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    یوں بڑی دیر سے پیمانہ لیے بیٹھا ہوں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY