یوں درد کی شدت سے پکاری مری آنکھیں

اسماء ہادیہ

یوں درد کی شدت سے پکاری مری آنکھیں

اسماء ہادیہ

MORE BY اسماء ہادیہ

    یوں درد کی شدت سے پکاری مری آنکھیں

    خوابوں کے بکھر جانے سے ہاری مری آنکھیں

    پلکوں پہ غم ہجر کے سب دیپ جلائے

    نیندوں کے شبستان میں بھاری مری آنکھیں

    تنہائی میں اک خواب کی لو پھوٹ رہی ہے

    بجھ سکتی نہیں رنج کی ماری مری آنکھیں

    تم جب سے مرے آنکھ کے حجرے میں مکیں ہو

    پر نور ہوئی اور بھی پیاری مری آنکھیں

    یہ کس کی زیارت سے چھلکتا ہے اجالا

    اس سرمۂ منظر نے نکھاری مری آنکھیں

    سپنوں کے حسیں تخت پہ ہیں روز ازل سے

    بیٹھی ہیں بنی راجکماری مری آنکھیں

    یہ رسم شب غم سے ہی ایجاد ہوئی ہے

    اشکوں کے ستاروں سے سنواری مری آنکھیں

    مآخذ:

    • کتاب : Word File Mail By Salim Saleem

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY