یوں گلشن ہستی کی مالی نے بنا ڈالی

بیدم شاہ وارثی

یوں گلشن ہستی کی مالی نے بنا ڈالی

بیدم شاہ وارثی

MORE BYبیدم شاہ وارثی

    یوں گلشن ہستی کی مالی نے بنا ڈالی

    پھولوں سے جدا کلیاں کلیوں سے جدا ڈالی

    سر رکھ کے ہتھیلی پر اور لخت جگر چن کر

    سرکار میں لائے ہیں ارباب وفا ڈالی

    رویا کہوں میں اس کو یا مژدۂ بیداری

    غل ہے کہ نقاب اس نے چہرے سے اٹھا ڈالی

    اللہ رے تصور کی نقاشی و نیرنگی

    جب بن گئی اک صورت اک شکل مٹا ڈالی

    ساقی نے ستم ڈھایا برسات میں ترسایا

    جب فصل بہار آئی دوکان اٹھا ڈالی

    خون دل عاشق کے اس قطرے کا کیا کہنا

    دنیائے وفا جس نے رنگین بنا ڈالی

    بیدمؔ ترے گریہ نے طوفان اٹھا ڈالے

    اور نالوں نے دنیا کی بنیاد ہلا ڈالی

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے