یوں میں سیدھا گیا وحشت میں بیاباں کی طرف

نظم طبا طبائی

یوں میں سیدھا گیا وحشت میں بیاباں کی طرف

نظم طبا طبائی

MORE BYنظم طبا طبائی

    یوں میں سیدھا گیا وحشت میں بیاباں کی طرف

    ہاتھ جس طرح سے آتا ہے گریباں کی طرف

    بیٹھے بیٹھے دل غمگیں کو یہ کیا لہر آئی

    اٹھ کے طوفان چلا دیدۂ گریاں کی طرف

    دیکھنا لالۂ خود رو کا لہکنا ساقی

    کوہ سے دوڑ گئی آگ بیاباں کی طرف

    رو دیا دیکھ کے اکثر میں بہار شبنم

    ہنس دیا دیکھ کے اکثر گل خنداں کی طرف

    بات چھپتی نہیں پڑتی ہیں نگاہیں سب کی

    اس کے دامن کی طرف میرے گریباں کی طرف

    سیکڑوں داغ گنہ دھو گئے رحمت سے تری

    کیا گھٹا جھوم کے آئی تھی گلستاں کی طرف

    چشم آئینہ پریشاں نظری سیکھ گئی

    دیکھتا تھا یہ بہت زلف پریشاں کی طرف

    سر جھکائے ہوئے ہے نظمؔ بسان خامہ

    سمت سجدے کی ہے تیری خط فرماں کی طرف

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY