یوں نکلتی ہے دل سے آہ کہیں

عبدالرحمن آصف

یوں نکلتی ہے دل سے آہ کہیں

عبدالرحمن آصف

MORE BYعبدالرحمن آصف

    یوں نکلتی ہے دل سے آہ کہیں

    ہو نہ ہو لڑ گئی نگاہ کہیں

    بڑھتی ہی جاتی ہیں تمنائیں

    دل کو کر دیں نہ یہ تباہ کہیں

    دیکھ لی میں نے بھی جھلک ان کی

    چوکتی ہے مری نگاہ کہیں

    لے کے دل تو نے تو چرائی آنکھ

    اس طرح ہوتی ہے نباہ کہیں

    ہم سے آخر وہ منہ چھپانے لگے

    چھپتی ہے شوق کی نگاہ کہیں

    عقل نے اس میں ٹیڑھ پیدا کی

    نظر آئی جو سیدھی راہ کہیں

    ضبط گریہ کا اہتمام تو ہے

    نہ نکل جائے منہ سے آہ کہیں

    تیرے در پر جسے اماں نہ ملی

    اس کو ملتی نہیں پناہ کہیں

    دل کو آنکھوں نے کر دیا گمراہ

    اب یہ ہوتا ہے رو براہ کہیں

    غیر کا عشق دل لگی ٹھہرا

    ہم سے ہوتا جو یہ گناہ کہیں

    کہہ نہ دے ان سے حال دل آصفؔ

    میری حسرت بھری نگاہ کہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے