یوں تو ہر ایک شخص ہی طالب ثمر کا ہے

صادق نسیم

یوں تو ہر ایک شخص ہی طالب ثمر کا ہے

صادق نسیم

MORE BYصادق نسیم

    یوں تو ہر ایک شخص ہی طالب ثمر کا ہے

    ایسا بھی کوئی ہے کہ جسے غم شجر کا ہے

    یہ کیسا کارواں ہے کہ ایک ایک گام پر

    سب سوچتے ہیں کیا کوئی موقع سفر کا ہے

    یہ کیسا آسماں ہے کہ جس کی فضاؤں میں

    ایک خوف سا شکستگیٔ بال و پر کا ہے

    یہ کیسا گھر ہے جس کے مکینوں کو ہر گھڑی

    دھڑکا سا ایک لرزش دیوار و در کا ہے

    آنکھوں پہ تیرگی کا تسلط ہے اس قدر

    کرنوں پہ احتمال فریب نظر کا ہے

    چہرے کا کوئی داغ دکھائی نہ دے مجھے

    یہ معجزہ عجب مرے آئینہ گر کا ہے

    تھا میر جیؔ کا دور غنیمت کہ ان دنوں

    دستار ہی کا ڈر تھا مگر اب تو سر کا ہے

    یہ سارے سلسلے تھے جب آنکھوں میں نور تھا

    اب کس کا انتظار کسی دیدہ ور کا ہے

    غالب ہے اب بلند صدا ہی دلیل پر

    صادقؔ ہمارا دور عجیب شور و شر کا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 572)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY