یوں تو نہ تیرے جسم میں ہیں زینہار ہاتھ

نظم طبا طبائی

یوں تو نہ تیرے جسم میں ہیں زینہار ہاتھ

نظم طبا طبائی

MORE BYنظم طبا طبائی

    یوں تو نہ تیرے جسم میں ہیں زینہار ہاتھ

    دینے کے اے کریم مگر ہیں ہزار ہاتھ

    انگڑائیوں میں پھیلتے ہیں بار بار ہاتھ

    شیشہ کی سمت بڑھتے ہیں بے اختیار ہاتھ

    ڈوبے ہیں ترک سعی سے افسوس تو یہ ہے

    ساحل تھا ہاتھ بھر پہ لگاتے جو چار ہاتھ

    آتی ہے جب نسیم تو کہتی ہے موج بحر

    یوں آبرو سمیٹ اگر ہوں ہزار ہاتھ

    درپئے ہیں میرے قتل کے احباب اور میں

    خوش ہوں کہ میرے خون میں رنگتے ہیں یار ہاتھ

    دامن کشاں چلی ہے بدن سے نکل کے روح

    کھنچتے ہیں پھیلتے ہیں جو یوں بار بار ہاتھ

    مٹتا نہیں نوشتۂ قسمت کسی طرح

    پتھر سے سر کو پھوڑ کہ زانو پہ مار ہاتھ

    ساقی سنبھالنا کہ ہے لبریز جام مے

    لغزش ہے میرے پاؤں میں اور رعشہ دار ہاتھ

    مطرب سے پوچھ مسئلہ جبر و اختیار

    کیا تال سم پہ اٹھتے ہیں بے اختیار ہاتھ

    میں اور ہوں علائق دنیا کے دام میں

    میرا نہ ایک ہاتھ نہ اس کے ہزار ہاتھ

    اے نظمؔ وصل میں بھی رہا تو نہ چین سے

    دل کو ہوا قرار تو ہے بے قرار ہاتھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY