یوں تو سب سامان پڑا ہے

سریندر شجر

یوں تو سب سامان پڑا ہے

سریندر شجر

MORE BYسریندر شجر

    یوں تو سب سامان پڑا ہے

    لیکن گھر ویران پڑا ہے

    شہر پہ جانے کیا بیتی ہے

    ہر رستہ سنسان پڑا ہے

    زندہ ہوں پر کوئی مجھ میں

    مدت سے بے جان پڑا ہے

    تبھی چلیں ہیں اس قافلے والے

    جب رستہ آسان پڑا ہے

    شاعر کانٹوں پر جیتا تھا

    پھولوں پر دیوان پڑا ہے

    میرے گھر کے دروازے پر

    میرا ہی سامان پڑا ہے

    یار شجرؔ دنیا کا فسانہ

    کب سے بے عنوان پڑا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY