یوں تجھ سے دور دور رہوں یہ سزا نہ دے

عاجز ماتوی

یوں تجھ سے دور دور رہوں یہ سزا نہ دے

عاجز ماتوی

MORE BYعاجز ماتوی

    یوں تجھ سے دور دور رہوں یہ سزا نہ دے

    اب اور زندہ رہنے کی مجھ کو دعا نہ دے

    اب احتیاط شدت گریہ نہ پوچھئے

    ڈرتا ہوں میں وہ سن کے کہیں مسکرا نہ دے

    لو میں نے دل کی اس سے لگائی تو ہے مگر

    ڈر ہے یہ شمع غم کہیں دامن جلا نہ دے

    کہنا تو ہے مجھے بھی حدیث غم حیات

    لب کھولنے کی کاش اجازت زمانہ دے

    ہو بجلیوں کا مجھ سے جہاں پر مقابلہ

    یارب وہیں چمن میں مجھے آشیانہ دے

    اس دینے والے کے یہاں کس شے کی ہے کمی

    تم مانگنے کی طرح جو مانگو تو کیا نہ دے

    حساس میں بہت ہوں نہ لگ جائے دل کو ٹھیس

    محفل میں مسکرا کے مجھے یوں صدا نہ دے

    میں آشنائے درد و غم دل ہوں چارہ گر

    جس سے افاقہ ہو مجھے ایسی دوا نہ دے

    عاجزؔ تمام عمر میں کھاتا رہا فریب

    مجھ کو مری وفاؤں کا ایسا صلہ نہ دے

    مآخذ :
    • کتاب : mahbas-e-gham (Pg. 64)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY