یوں ہی دکھ ہو جاویں گے کم شہزادے

فوزیہ رباب

یوں ہی دکھ ہو جاویں گے کم شہزادے

فوزیہ رباب

MORE BYفوزیہ رباب

    یوں ہی دکھ ہو جاویں گے کم شہزادے

    آ جا سکھ کے خواب بنیں ہم شہزادے

    اپنے ہوش گنوا بیٹھی ہوں پھر سے آج

    سوچ رہی ہوں تجھ کو ہر دم شہزادے

    شہزادی کے خواب عذاب نہ کر جانا

    ہو جاویں گی آنکھیں پر نم شہزادے

    میری روح میں تیری یاد اترتی ہے

    ہولے ہولے مدھم مدھم شہزادے

    ایسا سخت تکلم آخر کیوں بولو

    کیوں رہتے ہو برہم برہم شہزادے

    کب تک تنہا تنہا ٹوٹیں بکھریں گے

    روح میں روح کو ہونے دے ضم شہزادے

    شہزادے کچھ اور نہ مانگے شہزادی

    نکلے تیری بانہوں میں دم شہزادے

    رفتہ رفتہ ہو گئے آخر تیرے نام

    میرا جیون میرے موسم شہزادے

    تجھ سے ہی مانوس ہوا سو تو جانے

    جگ کیا جانے دل کا عالم شہزادے

    آنسو تجھ کو ڈھونڈیں ہیں دیوانہ وار

    شہزادی کی آنکھیں ہیں نم شہزادے

    کب تک تنہا چنتی جائے زخم ربابؔ

    رکھ میٹھے لفظوں کے مرہم شہزادے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY