زاہد کے دل میں بت ہے مسلماں نہیں رہا

جمیلہ خدا بخش

زاہد کے دل میں بت ہے مسلماں نہیں رہا

جمیلہ خدا بخش

MORE BYجمیلہ خدا بخش

    زاہد کے دل میں بت ہے مسلماں نہیں رہا

    یہ برہمن ہے صاحب ایماں نہیں رہا

    ملتے ہیں ہاتھ یاس سے دست جنوں مرے

    افسوس کوئی تار گریباں نہیں رہا

    صد شکر اپنے ساتھ دل اس کو بھی لے گیا

    جو چھیڑتا تھا ہم کو وہ ارماں نہیں رہا

    تصویر یار مجھ کو تصور بنا چکا

    پر شکر ہے خدا کا پریشاں نہیں رہا

    پہنچا دیا صبا نے اسے کوئے یار میں

    اپنا غبار بے سر و ساماں نہیں رہا

    لب بستہ دفعتاً جو ہوا زخم دل مرا

    دلبر کے خوان کا وہ نمکداں نہیں رہا

    انسانیت ہے جس میں دلا ہے وہ آدمی

    حیوانیت ہے جس میں وہ انساں نہیں رہا

    افشا یہ راز عشق ہوا میری آہ سے

    جس کو چھپا رہے تھے وہ پنہاں نہیں رہا

    عاشق کی تربتوں کو مٹا کر یہ کہہ دیا

    لو اب نشان گور غریباں نہیں رہا

    اپنی صدا سنا کے ہر اک یاں سے چل بسا

    گلشن میں کوئی مرغ خوش الحاں نہیں رہا

    جو قیدئ محن تھے جمیلہؔ وہ چل بسے

    زنداں میں کوئی صاحب زنداں نہیں رہا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY