زباں اظہار لہجہ بھول جاؤں

حامد اقبال صدیقی

زباں اظہار لہجہ بھول جاؤں

حامد اقبال صدیقی

MORE BYحامد اقبال صدیقی

    زباں اظہار لہجہ بھول جاؤں

    مرے معبود کیا کیا بھول جاؤں

    بکھر جاؤں زمیں سے آسماں تک

    پھر ایسا ہو سمٹنا بھول جاؤں

    میں تیرا نام اتنی بار لکھوں

    کہ اپنا نام لکھنا بھول جاؤں

    تری پرچھائیں تو لے آؤں گھر تک

    کہیں اپنا ہی سایہ بھول جاؤں

    تری آواز تو پہچان لوں گا

    یہ ممکن ہے کہ چہرہ بھول جاؤں

    کبھی یہ بھی تو ہو بھٹکوں جہاں میں

    اور اپنے گھر کا رستہ بھول جاؤں

    جنون بندگی کی لاج رکھنا

    اگر آداب سجدہ بھول جاؤں

    میں کب تک سوچتا رہتا جہاں کو

    یہی بہتر تھا جینا بھول جاؤں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY