زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں

محسن نقوی

زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں

محسن نقوی

MORE BYمحسن نقوی

    زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں

    میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں

    مرے گھر کا دریچہ پوچھتا ہے

    میں سارا دن کہاں پھرتا رہا ہوں

    مجھے میرے سوا سب لوگ سمجھیں

    میں اپنے آپ سے کم بولتا ہوں

    ستاروں سے حسد کی انتہا ہے

    میں قبروں پر چراغاں کر رہا ہوں

    سنبھل کر اب ہواؤں سے الجھنا

    میں تجھ سے پیشتر بجھنے لگا ہوں

    مری قربت سے کیوں خائف ہے دنیا

    سمندر ہوں میں خود میں گونجتا ہوں

    مجھے کب تک سمیٹے گا وہ محسنؔ

    میں اندر سے بہت ٹوٹا ہوا ہوں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں نعمان شوق

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY