ضبط کی حد سے بھی جس وقت گزر جاتا ہے

شوق مرادابادی

ضبط کی حد سے بھی جس وقت گزر جاتا ہے

شوق مرادابادی

MORE BYشوق مرادابادی

    ضبط کی حد سے بھی جس وقت گزر جاتا ہے

    درد ہونٹوں پہ ہنسی بن کے بکھر جاتا ہے

    رنگ بھر جاتا ہے پھر عشق کے افسانے میں

    اشک بن بن کے اگر خون جگر جاتا ہے

    آج تک عالم وحشت میں پئے جاتے ہیں

    کتنی مدت میں گھٹاؤں کا اثر جاتا ہے

    جام پی لیتے ہیں سب دیکھنا ہے ظرف مگر

    کون کس وقت اٹھا اور کدھر جاتا ہے

    دور وحشت میں محبت میں جنوں میں انساں

    جو نہ ممکن ہو کسی طور وہ کر جاتا ہے

    اپنے بیگانوں سے کچھ بیش تھے آزاری میں

    بات رہ جاتی ہے اور وقت گزر جاتا ہے

    کتنا بے خوف ہو بے درد نہ کیوں ہو آخر

    آئنہ دیکھ کے اعمال سے ڈر جاتا ہے

    وقت کٹ جائے اگر عالم تنہائی میں

    دل میں احساس ملاقات ہی مر جاتا ہے

    وہ جو دنیا کی حقیقت کو سمجھ لے انساں

    اپنی منزل کی طرف سینہ سپر جاتا ہے

    عالم ناز میں کچھ بھی تو نہیں تیرے سوا

    اک تصور ہے جو تا حد نظر جاتا ہے

    سینکڑوں داغ چمکتے ہیں تہ قلب اے شوقؔ

    کتنی گہرائی میں اف عکس اتر جاتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY