زخم اپنا سا کام کر نہ جائے

نقاش کاظمی

زخم اپنا سا کام کر نہ جائے

نقاش کاظمی

MORE BY نقاش کاظمی

    INTERESTING FACT

    (1969ء)

    زخم اپنا سا کام کر نہ جائے

    پھر درد کی لے بکھر نہ جائے

    جب اس کی نگاہ اس طرف ہے

    کیوں میری نظر ادھر نہ جائے

    ہے فصل جنوں کی آمد آمد

    پیڑوں کا لباس اتر نہ جائے

    اب مجھ سے نہ مل کہ زہر میرا

    نس نس میں ترے اتر نہ جائے

    مدت سے ملا نہیں ہوں اس سے

    وہ میرے بغیر مر نہ جائے

    ایسا تو نہیں کہ لوٹ جاؤں

    اب آگے جو ہم سفر نہ جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY