زخم ہی زخم ہیں دل پر کبھی ایسا تو نہ تھا

کوثر جائسی

زخم ہی زخم ہیں دل پر کبھی ایسا تو نہ تھا

کوثر جائسی

MORE BYکوثر جائسی

    زخم ہی زخم ہیں دل پر کبھی ایسا تو نہ تھا

    کرم یار کا نشتر کبھی ایسا تو نہ تھا

    پھول جو مجھ کو دئے بن گئے وہ انگارے

    وقت عیار و ستم گر کبھی ایسا تو نہ تھا

    بستیاں راز کی اشکوں میں بہی جاتی ہیں

    موجزن غم کا سمندر کبھی ایسا تو نہ تھا

    آج دست طلب اٹھے تو قلم ہو جائے

    دور محرومیٔ ساغر کبھی ایسا تو نہ تھا

    آنے والے نہیں جب وہ تو یہ رونق کیسی

    آج جیسا ہے مرا گھر کبھی ایسا تو نہ تھا

    چھن گئی ہو نہ تجلی کہیں دیواروں سے

    شور میخانے کے باہر کبھی ایسا تو نہ تھا

    پاؤں رکھا تھا جہاں سرو میں خم ہے اب تک

    جادۂ عشق میں پتھر کبھی ایسا تو نہ تھا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY