زخم ناسور کوئی ہونے سے

نوین جوشی

زخم ناسور کوئی ہونے سے

نوین جوشی

MORE BYنوین جوشی

    زخم ناسور کوئی ہونے سے

    درد اگتا ہے درد بونے سے

    وہ تھا مرکوز میرے مرکز پر

    اور ادھڑتا رہا میں کونے سے

    چلو اب ہنس کے دیکھ لیتے ہیں

    دل پگھلتے نہیں ہیں رونے سے

    اسے ہم سود اب کہیں یا زیاں

    مل گیا خواب نیند کھونے سے

    وہ اندھیروں میں ہی رہے آخر

    بجھ گئے جو چراغ ڈھونے سے

    دن میں بھی رات کا سماں ہوگا

    جاگتے میں یوں سب کے سونے سے

    میری مٹی ہے اب تلک کچی

    گھل نہ جاؤں کہیں بھگونے سے

    اب سمندر نپٹ اکیلا ہے

    کیا ملا کشتیاں ڈبونے سے

    میرے سائے سے یہ بھی ظاہر ہے

    نور حائل ہے میرے ہونے سے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے