زخمی دلوں کی پیاس سرابوں میں گم ہوئی

خلیل مامون

زخمی دلوں کی پیاس سرابوں میں گم ہوئی

خلیل مامون

MORE BYخلیل مامون

    زخمی دلوں کی پیاس سرابوں میں گم ہوئی

    جو چشم وا تھی بجھتے چراغوں میں گم ہوئی

    پھرتی ہے اس کو ڈھونڈتی اب موت کو بہ کو

    یہ زندگی تو تیری نگاہوں میں گم ہوئی

    چلنا لکھا ہے اپنے مقدر میں عمر بھر

    منزل ہماری درد کی راہوں میں گم ہوئی

    ہم ڈھونڈنے چلے ہیں کہاں پیکر خیال

    چشم ہوس تو گم شدہ خوابوں گم ہوئی

    خوشبو نے رستہ چھوڑ دیا انتظار کا

    مٹی میں خفتہ بکھرے گلابوں میں گم ہوئی

    اوراق کے پلٹنے سے کچھ بھی نہیں ملا

    دانش ہماری ساری کتابوں میں گم ہوئی

    مامونؔ ذوق عشق سے ملتا بھی کیا ہمیں

    آب رواں کی موج کتابوں میں گم ہوئی

    RECITATIONS

    خلیل مامون

    خلیل مامون

    خلیل مامون

    زخمی دلوں کی پیاس سرابوں میں گم ہوئی خلیل مامون

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY