زمانہ ڈھونڈ رہا تھا کدھر گیا پانی

لئیق عاجز

زمانہ ڈھونڈ رہا تھا کدھر گیا پانی

لئیق عاجز

MORE BYلئیق عاجز

    زمانہ ڈھونڈ رہا تھا کدھر گیا پانی

    کسی کا حکم ہوا تو ٹھہر گیا پانی

    وہ دھوپ تھی کہ زمیں جل کے راکھ ہو جاتی

    برس کے اب کے بڑا کام کر گیا پانی

    بڑا غرور تھا اپنی چمک دمک پہ اسے

    سنار نے جو تپایا اتر گیا پانی

    خدا کا خوف نہیں اب تمہارے ذہنوں میں

    توہمات کا اس طرح بھر گیا پانی

    شکست خوردہ یہ قومیں تمہیں مٹا دیں گی

    اگر تمہاری حمیت کا مر گیا پانی

    ترس نہ آیا غریبوں کے حال پر عاجزؔ

    سسکتے پودوں کے سر سے گزر گیا پانی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY