زمانہ گزرا ہے لہروں سے جنگ کرتے ہوئے

راشد انور راشد

زمانہ گزرا ہے لہروں سے جنگ کرتے ہوئے

راشد انور راشد

MORE BYراشد انور راشد

    زمانہ گزرا ہے لہروں سے جنگ کرتے ہوئے

    کبھی تو پار لگوں ڈوبتے ابھرتے ہوئے

    بڑے ہی شوق سے اک آشیاں بنایا تھا

    میں کیسے دیکھوں اسے ٹوٹتے بکھرتے ہوئے

    کبھی تو ذہن کے پردے پہ نقش ابھرے گا

    یہ سوچتا ہوں تصور میں رنگ بھرتے ہوئے

    ہر اک مقام پہ طوفان نے دبوچ لیا

    جہاں جہاں بھی چھپا آندھیوں سے ڈرتے ہوئے

    وہ بوند بوند قیامت وہ نور نور بدن

    کسی نے دیکھا ہی کب ہے اسے سنورتے ہوئے

    وہ میری ذات سے اب بد گماں نہیں شاید

    تبھی تو دیکھ نہیں سکتا مجھ کو مرتے ہوئے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY