زمانے والوں کے چہروں پہ کتنے ڈر نکلے

رشمی صبا

زمانے والوں کے چہروں پہ کتنے ڈر نکلے

رشمی صبا

MORE BY رشمی صبا

    زمانے والوں کے چہروں پہ کتنے ڈر نکلے

    فلک کی چاہ میں جب بھی زمیں کے پر نکلے

    بھٹکنا چاہوں بھی تو دنیا مختصر نکلے

    جدھر بڑھاؤں قدم تیری رہ گزر نکلے

    یشودھرا کی طرح نیند میں چھلی گئی تو

    میں چاہتی ہوں مرے خواب سے یہ ڈر نکلے

    کبھی خیال میں سوچو وہ رات کا چہرہ

    کہ جس گھڑی وہ دعا کرتی ہے سحر نکلے

    کہ جس پہ چلتے ہوئے خود سے مل سکوں میں صباؔ

    کہیں سے کاش کوئی ایسی رہ گزر نکلے

    پڑاؤ ہوتی ہوئی منزلیں نہ تھیں منظور

    سو ہار تھک کے صباؔ ہم بھی اپنے گھر نکلے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY