زمین آنکھوں کو مل رہی تھی ہوا کا کوئی نشاں نہیں تھا

عزیز نبیل

زمین آنکھوں کو مل رہی تھی ہوا کا کوئی نشاں نہیں تھا

عزیز نبیل

MORE BYعزیز نبیل

    زمین آنکھوں کو مل رہی تھی ہوا کا کوئی نشاں نہیں تھا

    تمام سمتیں سلگ رہی تھیں مگر کہیں بھی دھواں نہیں تھا

    چراغ کی تھرتھراتی لو میں ہر اوس قطرے میں ہر کرن میں

    تمہاری آنکھیں کہاں نہیں تھیں تمہارا چہرہ کہاں نہیں تھا

    دیار ہجراں کی وحشتوں کا طلسم ٹوٹا تو میں نے جانا

    ہر ایک دستک ہواؤں میں تھی مکیں نہیں تھے مکاں نہیں تھا

    وہ ایک لمحہ تھا سر خوشی کا فسوں تھا دریافت کے سفر کا

    جو ریگ جاں میں چمک رہا تھا ستارۂ آسماں نہیں تھا

    وہ کیسا موسم تھا زرد شاخوں سے سبز بیلیں لپٹ رہی تھیں

    وہ سبز بیلیں کہ جن کی آنکھوں میں کوئی خوف خزاں نہیں تھا

    یگوں کے رتھ پر سوار گہری خموشیوں نے بتایا مجھ کو

    کہ تم سے پہلے بھی اور پہلے بھی بس یقیں تھا گماں نہیں تھا

    اسی زمیں کی تہوں میں بہتا تھا میٹھے پانی کا ایک چشمہ

    سراب زادوں کی تشنگی کو مگر کچھ اس کا گماں نہیں تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY