زمین چیخ رہی ہے کہ آسمان گرا

فضا ابن فیضی

زمین چیخ رہی ہے کہ آسمان گرا

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    زمین چیخ رہی ہے کہ آسمان گرا

    یہ کیسا بوجھ ہمارے بدن پہ آن گرا

    بہت سنبھال کے رکھ بے ثبات لمحوں کو

    ذرا جو سنکی ہوا ریت کا مکان گرا

    اس آئینے ہی میں لوگوں نے خود کو پہچانا

    بھلا ہوا کہ میں چہروں کے درمیان گرا

    رفیق سمت سفر ہوگی جو ہوا ہوگی

    یہ سوچ کر نہ سفینے کا بادبان گرا

    میں اپنے عہد کی یہ تازگی کہاں لے جاؤں

    اک ایک لفظ قلم سے لہولہان گرا

    قریب و دور کوئی شعلۂ نوا بھی نہیں

    یہ کن اندھیروں میں ہاتھوں سے شمع دان گرا

    فضاؔ کو توڑ تو پھینکا ہواؤں نے لیکن

    یہ پھول اپنی ہی شاخوں کے درمیان گرا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    زمین چیخ رہی ہے کہ آسمان گرا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY