زمیں کا آخری منظر دکھائی دینے لگا

شاہین عباس

زمیں کا آخری منظر دکھائی دینے لگا

شاہین عباس

MORE BY شاہین عباس

    زمیں کا آخری منظر دکھائی دینے لگا

    میں دیکھتا ہوا پتھر دکھائی دینے لگا

    وہ سامنے تھا تو کم کم دکھائی دیتا تھا

    چلا گیا تو برابر دکھائی دینے لگا

    نشان ہجر بھی ہے وصل کی نشانیوں میں

    کہاں کا زخم کہاں پر دکھائی دینے لگا

    وہ اس طرح سے مجھے دیکھتا ہوا گزرا

    میں اپنے آپ کو بہتر دکھائی دینے لگا

    تجھے خبر ہی نہیں رات معجزہ جو ہوا

    اندھیرے کو، تجھے چھو کر، دکھائی دینے لگا

    کچھ اتنے غور سے دیکھا چراغ جلتا ہوا

    کہ میں چراغ کے اندر دکھائی دینے لگا

    پہنچ گیا تری آنکھوں کے اس کنارے تک

    جہاں سے مجھ کو سمندر دکھائی دینے لگا

    مآخذ:

    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 548)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY