زمیں کے بعد ہم اب آسماں نہ رکھیں گے

غلام مرتضی راہی

زمیں کے بعد ہم اب آسماں نہ رکھیں گے

غلام مرتضی راہی

MORE BYغلام مرتضی راہی

    زمیں کے بعد ہم اب آسماں نہ رکھیں گے

    خلا رہے گا قدم ہم جہاں نہ رکھیں گے

    جواب دینا پڑے گا ہمیں خموشی کا

    سو طے کیا ہے کہ منہ میں زباں نہ رکھیں گے

    کہیں اضافہ کہیں حذف تو کہیں ترمیم

    کہیں کی اب وہ مری داستاں نہ رکھیں گے

    تلے ہیں ہاتھ جو ورثے پہ صاف کرنے پر

    کسی بھی دور کا باقی نشاں نہ رکھیں گے

    بتا رہے ہیں ہم احساں جتانے والوں کو

    جو سر پہ بوجھ ہو وہ سائباں نہ رکھیں گے

    نمو کے واسطے کوشاں ہیں اس یقین کے ساتھ

    بڑے ہوئے تو ہم اس کا گماں نہ رکھیں گے

    اگر ہو وجہ تعلق تو ہم سے دور رہو

    کوئی بھی فاصلہ ہم درمیاں نہ رکھیں گے

    جب اپنے گھر میں ہی اپنی انا کو خطرہ ہے

    ہم اپنے پاس یہ جنس گراں نہ رکھیں گے

    کسی نے مارا ہے شب خون ایسا راہی پر

    کہ اب وہ صبح تلک تن میں جاں نہ رکھیں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY