زمیں پر بس لہو بکھرا ہمارا

سراج فیصل خان

زمیں پر بس لہو بکھرا ہمارا

سراج فیصل خان

MORE BYسراج فیصل خان

    زمیں پر بس لہو بکھرا ہمارا

    ابھی بکھرا نہیں جذبہ ہمارا

    ہمیں رنجش نہیں دریا سے کوئی

    سلامت گر رہے صحرا ہمارا

    ملا کر ہاتھ سورج کی کرن سے

    مخالف ہو گیا سایہ ہمارا

    رقیب اب وہ ہمارے ہیں جنھوں نے

    نمک تا زندگی کھایا ہمارا

    ہے جب تک ساتھ بنجارہ مجازی

    کہاں منزل کہاں رستہ ہمارا

    تعلق ترک کر کے ہو گیا ہے

    یہ رشتہ اور بھی گہرا ہمارا

    بہت کوشش کی لیکن جڑ نہ پایا

    تمہارے نام میں آدھا ہمارا

    ادھر سب ہم کو قاتل کہہ رہے ہیں

    ادھر خطرے میں تھا کنبہ ہمارا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY