Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

زمیں پہ سایا نہ برگ و ثمر ہیں شاخوں پر

راہی قریشی

زمیں پہ سایا نہ برگ و ثمر ہیں شاخوں پر

راہی قریشی

MORE BYراہی قریشی

    زمیں پہ سایا نہ برگ و ثمر ہیں شاخوں پر

    عجیب قہر برستا ہے اب درختوں پر

    ہمارے دامن و دست تہی کو کچھ نہ ملا

    ملا انہی کو جو مائل نہ تھے دعاؤں پر

    نہ دے شکستہ دلوں کو نوید مستقبل

    یہی بہت ہے کہ اب تک چھپے ہیں وعدوں پر

    دعائیں دیجئے انصاف دست قاتل کو

    کہ رونے والے بھی باقی رہے نہ لاشوں پر

    وفا نظر نہیں آئی کسی کی آنکھوں میں

    عجیب وقت پڑا ہے ہماری آنکھوں پر

    درون خانہ خدا جانے کیا اداسی ہے

    رکی ہوئی ہیں نگاہیں حسیں دریچوں پر

    ادا ہو موت کے دست کرم ہی سے شاید

    وہ قرض زیست جو باقی ہے اپنی سانسوں پر

    کہاں دکھائی دے عکس خلوص اب راہیؔ

    جمی ہے گرد عداوت دلوں کے شیشوں پر

    مأخذ:

    Tahreek Jild 29 Shumara 3 June 1981-Svk (Pg. 18)

      • ناشر: گوپال متل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے