زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا

ظفر گورکھپوری

زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا

ظفر گورکھپوری

MORE BYظفر گورکھپوری

    زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا

    تجھے ایسا کشادہ آسماں کوئی نہیں دے گا

    ابھی زندہ ہیں ہم پر ختم کر لے امتحاں سارے

    ہمارے بعد کوئی امتحاں کوئی نہیں دے گا

    جو پیاسے ہو تو اپنے ساتھ رکھو اپنے بادل بھی

    یہ دنیا ہے وراثت میں کنواں کوئی نہیں دے گا

    ملیں گے مفت شعلوں کی قبائیں بانٹنے والے

    مگر رہنے کو کاغذ کا مکاں کوئی نہیں دے گا

    خود اپنا عکس بک جائے اسیر آئینہ ہو کر

    یہاں اس دام پر نام و نشاں کوئی نہیں دے گا

    ہماری زندگی بیوہ دلہن بھیگی ہوئی لکڑی

    جلیں گے چپکے چپکے سب دھواں کوئی نہیں دے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY